خاکسارتحریک محمد علی جناح کے قاتلانہ حملے کے کیس سے باعزت بری
خاکسارتحریک کی آفیشل ویب سائٹ پرہندستان کی ایک معتبر اخبارانڈین ایکسپریس کی خبر کا عکس پوسٹ کیا جارہاہےجس کے مطابق مورخہ 05 نومبر 1943 کے ایڈیشن کے میں یہ خبر کے شائع ہوئی جس کا خلاصہ یہ ہے کہ بمبئی ہائی کورٹ کے جج جسٹس بلیگڈن نے محمد علی جناح پر قاتلانہ حملے کے کیس میں اپنے 04 نومبر 1943 کے فیصلے میں واضح الفاظ میں قاتلانہ حملے میں ملوث رفیق صابر مزنگوی کو خاکسارتحریک کا کارکن ثابت نہ ہونے کے باوجود مسٹر محمد علی جناح پر قاتلانہ حملہ کرنے پر ۵ سال کی سخت سزا سنائی۔ اپنے عدالتی فیصلہ دیتے ہوئے جسٹس بلیگڈن نے صاف اور واضح الفاظ میں یہ کہا کہ خاکسار تحریک کا قاتلانہ حملے سے کوئی تعلق نہیں اس فیصلے کی واضحت اس اخبارکی خبر میں واضح طور پر چھپی ہے اور یہ بات ثابت ہے کہ مسٹر محمد علی جناح پر قاتلانہ حملہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت بنایا گیاتھا جس سے خاکسارتحریک جو ہندوستان کے تول عرض میں پھیل چکی تھی کی ساکھ کو ہندوستان بھر میں نقصان رسانا مطلوب تھا۔ اس اخبار کی خبر کی صحت سے متعلق کوئی شک کی گنجائش نہیں کیونکہ انڈین ایکسپریس ہندوستان کا ایک معتبر اخبار ہے اور گوگل سرچ انجن کے ریکارڈ کے مطابق اس اخبار کے سینکڑوں ایڈیشنزکی اوریجنل اسکین شدہ کاپیاں 1930 سے لیکر آج تک گوگل کے نیوز سیکشن کے آرکائیوز میں موجود ہیں اور اس اخبار کا موجودہ ویب ایڈریس اس پیراگراف کے اخر میں موجود ہے جو کہ واضح ثبوت ہے کہ یہ اخبار آج بھی بھی ہندوستان سے شائع ہورہا ہے اور ہندوستان کا ایک معتبر اور ٹاپ لائن اخبار ہے۔
روزنامہ انڈین ایکسپریس کا موجودہ ویب سائٹ ایڈریس؛
خاکسارتحریک پر مسٹرجناح پر قاتلانہ حملے کی وضاحت
خاکسار تحریک یا علامہ المشرقی کےمتعلق یہ کہناکہ انھوں نے محمد علی جناح پر قاتلانہ حملہ کروایا ایک بوگس اور من گھڑک الزام تھا اور ہے جو کہ نہ توکسی کورٹ میں ثابت ہوسکا اور نہ ہی کورٹ کے باہر کسی بھی فورم پر ثابت ہوسکا۔ ایک بات کی وضاحت کرنا ضروری ہے وہ یہ کہ خاکسارتحریک اور علامہ المشرقی کی ساتھ انگریز حکومت کی دشمنی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں اور یہ ہی انگریز حکومت تھی جس نے 19مارچ 1940 کو لاہور میں خاکساروں پر گولی چلائی اور خاکسارتحریک کو ہندوستان بھر میں خلاف قانون قرار دے کر علامہ المشرقی کو ۲ سے ڈھائی سال تک ویلور جیل مدارس میں بند رکھا خاکساروں کو ہندوستان کے طول وعرض سے گرفتار کرکے بنا کیس چلائے جیلوں میں اذیت ناک سزائیں دی گئیں اور ان کو زندہ درگور کیاگیا تویہ کس طرح ہوسکتاہے کہ خاکسارتحریک جو ہندوستان میں انگریز مخالف جماعت تھی اس کے ساتھ کوئی رعایت برتی جاتی لیکن اس کے برعکس کیوںکہ خاکسارتحریک کا اس سازش میں کوئی کردار نہیں تھا اس لئے انگریز حکومت کے ماتحت انگریز جج جسٹس بلیگڈن نے واضح الفاظ میں خاکسارتحریک کو اس قاتلانہ الزام کے کیس میں باعزت بری کیا حالانکہ اس وقت مسلم لیگ اور کانگریس کے لیڈروں نے ایڑی چوٹی کو زور لگایا کہ کسی طرح یہ الزام ثابت ہوجائے اور اس الزام کو سچ ثابت کرنے کے لئے مسلمان سمیت ہندو پریس اور میڈیا نے اہم کردار ادا کیا۔ کیونکہ رفیق صابرمزنگوی خود ایک مسلم لیگی کارکن تھا جس کی جیب سے قاتلانہ حملہ کے بعد گرفتاری کے وقت پولیس نے مسلم لیگ کی ممبرشپ کا کارڈ بھی برآمد کیا تھا اور یہ ممبر شپ کارڈ ہی وجہ بناتھا رفیق صابر کی محمد علی جناح کے ساتھ ان کی رہائش گاہ میں ملاقات کا ورنہ سوچنے کے بات ہے کہ محمد علی جناح صاحب اپنی رہائش گاہ میں رفیق صابر سے کیوں ملے؟ یہ اس قاتلانہ حملے کے الزام کی طرح ایک اور الزام ہے کہ رفیق صابر مزنگوی خاکسارتھا رفیق صابر مزنگوی ایک مسلم لیگی کارکن تھا یہ بات اُس وقت اُس کے گرفتاری کے وقت پتہ چل گئی تھی اور بعد میں اُسی ممبر شپ کارڈ کی بنیاد پر دورانِ کیس ثابت ہوگیا کہ رفیق صابر خاکسار کارکن نہیں۔ اس بات کا ذکر پرفیسر املنڈو ڈی کی کتاب [ ڈی ہسٹری آف خاکسارمومنٹ ان انڈیا] کی جلد دوم میں کیا گیا ہے۔ واضح رہے یہ کتاب حالیہ دنوں میں ہندوستان میں شایع ہوئی ہے اور خاکسارتحریک کی تاریخ سے متعلق ایک اہم اور مصدقہ کتاب ہے اور منصف جو کہ ایک ہندو ریسرچ اسکالر ہے اُس نے بنا کسی دبا کے ہندوستان کے انڈین آرکائیو ڈیپارٹمنٹ، پولیس ڈپارٹمنٹ، انٹلیجنس ڈپارٹمنٹ، وائسرے ریکارڈ دہلی اور دنیا کے تول عرض سےخاکسار تحریک سے متعلق مواد سے اکھٹاکر کے یہ کتاب مرتب کی ہے جو کہ دو جلدوں پر مشتمل ہے۔ اور اس کتاب کے حوالاجات انتہائی معتبرذرائع سے حاصل کئے گئے ہیں۔مورخہ 25 نومبر 2013 کی شام جیو ٹی وی پر کپیٹل ٹاک میں حامد میر صاحب نے خاکسارتحریک پر پھر یہ بیہودہ الزام دھرایا ہے کہ خاکسارتحریک محمد علی جناج کے قتل کے اقدام میں ملوث تھی موصوف کو شاید تاریخ کا مطالعہ نہیں ورنہ شاید وہ کوئی ایسی غیرذمدارنہ حرکت نہ کرتے اور یوں صحافتی بددیایتی نہ کرتے۔ ان سے گذارش ہے کہ بہراہ مھربانی اپنی انفرمیشن اپ ڈیٹ رکھیں ورنہ گھر بیٹھیں اس طرح کی یلوجنرنلزم آج انفریمشن اور ٹیکنولوجی کے دور میں کسی طرح قابل قبول نہیں
خاکسارتحریک میڈیا سیل
مرکز اعلیٰ خاکسارتحریک اچھرہ لاہور۔


No comments:
Post a Comment