- ہم خاکسار نسل انسانی کے تمام فرقہ واروارانہ جذبات اور مذہبی تعصبات کو اپنے نیک اور نفع رساں عمل سے کچل کر لیکن مذہب کو برقرار رکھ کر ایک مساوی، غیر متعصّبانہ، روادارانہ مگر غالب نظام پیدا کرنے کے درپے ہیں۔ جس میں سب اقوام سے بجا سلوک اور اُنکی پرورش ہو اور جس کی بنیاد، سعی و عمل اور بے پناہ عدل پر ہو۔
- قرنِ اوّل یا قرنِ اولےٰ کا عملی اسلام ہی صحیح اسلام ہے۔ خاکسار سپاہی رسول کے طریقِ عمل کے سواکسی شے کو دین اسلام تسلیم نہیں کرتا۔
- فرقہ پرست مولوی کا آج کل کا بتایا ہواراستہ غلط ہے۔ خاکسار اِس غلط مذہب کو صفحہء زمین سے مٹانے اور اُس کی جگہ اصلی اورحقیقی نبوی اسلام پھر سے رائج کرنے کے لئے اٹھا ہے۔
- فرقہ پرست با تنخواہ اور پیشہ ور مولوی کاگروہ قرنِ اولےٰ میں نہیں تھا۔ اس لئے خاکسار سپاہی اس جگہ اماموں کا منظم گروہ پیدا کرنا چاہتا ہے جو قوم پرشرعی حکومت پیدا کرے۔ مولوی کے لئے ”مولانا “ کے القاب کو اسلامی لغات سے نکال دیا جائے کیونکہ اس کے معنی ” ہمارے خدا “ ہیں ۔ اس کی جگہ شیخ الفاضل یا اور القاب استعمال کئے جائیں۔
- خاکسار سپاہی مسلمانوں کے کسی فرقہ کے عقائد کو نہیں چھڑتا۔ اسِ اعتقا دی آزادی کو ہر مسلمان کا مذہبی حق سمجھتا ہے۔ لیکن سب فرقوں میں اتحاد ِعمل پیدا کرنے کے لئے کھڑا ہے۔
- خاکسار سپاہی قرآنِ حکیم، سنت یا حد یث شریف کے ہر رائج یا غیر رائج حصے پر نبوی عمل کرنا ہر مسلمان کا مذہبی حق سمجھتا ہے اور اُن کو حکومتِ وقت کی قانونی یا سیاسی گرفت سے آزادکرانے کے لئے ہر قربانی کرنے کےلئے تیار ہے۔
- خاکسارسپاہی ہر قوم ( ہندؤ، مسلم، سکھ، پارسی، عیسائی، یہودی، اچھوت وغیرہ) کے مذہبی اور معاشرتی جذبات کے احترام، اُس کے مخصوص تمدن(کلچر) اور روایات کے قیام اور عام رواداری کے لئے کھڑا ہے اور اس طرزِعمل کو بر صغیر پاک و ہند میں اسلامی سلطنت کے ایک ہزار سَال تک قائم رہنے کاراز یقین کرتا ہے۔
- خاکسار سپاہی ہر قوم کو اُس کے شہری حقوق دلانا اوراُن کے داخلی اور خارجی مفاد کی حفاظت کرنااپنی تنظیم کا پہلا فرض سمجھتا ہے۔ خاکسار سپاہی تالیف ِقلوب کو مد ِنظر رکھ کر ہرقوم کو اپنا حلیف اور رفیق تسلیم کرنے کے لئے تیار ہے اور اُن کو ایسا بننے کی دعوت دیتا ہے۔
- خاکسار سپاہی کا نصب العین روئے زمین کی بادشاہت اور اپنے نیک عمل کے ذریعے سے قوم کا اجتماعی اور سیاسی غلبہ ہے۔
- خاکسار سپاہی کا نصبِ العین پاکستان میں صرف ایک بیت المال کا قیام ہے جو ادارہ علیہ پاکستان خاکسار تحریک اچھر ہ لاہور نے قائم کرد یا ہے۔ تمام علیحدہ علیحدہ بیت المالوں کے قیام کی زور مخالفت کرتا ہے، خواہ اس میں کتنی قربا نی کیوں نہ کرنی پڑے۔ اس بیت المال کا مقصد آئیندہ کئی برس تک صرف روپیہ جمع کرنا ہے۔ اس میں سے کچھ عرصہ تک خرچ کرنا نہیں تاکہ غلبہ اسلام کا مشن بغیر کسی رکاوٹ کے آگے بڑھ سکے اور غلبہ اسلام کی منزل تک پہنچنے میں کسی قسم کی دشواری نہ ہو۔
- خاکسار سپاہی کا یقین ہے کہ دنیا میں صرف اپنے ہر قوم اور شخص سے نیک سلوک اور صاف معاملات سے غالب آسکتا ہے کسی اور طریقے سے نہیں۔ یہ اخلاقی بزرگیاں کم وبیش ہر مذہبی کتاب میں مشترک طورپر موجود ہیں۔
- خاکسار سپاہی قوم کی اقتصادی حالت کو درست کرنے کے لئے ہر خاکسار کی تجارت کو بڑھانا اپنا فرض سمجھتا ہے۔ خواہ اس میں کتنی تکلیف کیوں نہ کرنی پڑے۔ وہ یقین کرتا ہے کہ اُس کے بغیر منزل تک نہیں پہنچ سکتا۔
- معاون خاکسا ر کی تعریف آج سے یہ ہے کہ ایک ماہ میں ایک سو روپے یا ایک سال میں بارہ سو روپے کے حساب سے ادارہ علیہ پاکستان خاکسار تحریک ۳۴-ذیلدار ورڈ، اچھرہ لاہور کے بیت المال میں ہمیشہ برا ہ راست بھیجتا رہے اور جب ادارہ علیہ تمام معاونین کو کوئی حکم دے تو اس پر پورا عمل کرے۔ خواہ اسُ وقت اس میں کتنی قربانی کیوں نہ کرنی پڑے۔ خاکسار سپاہی کو یقین ہے کہ اُس سے کم کام کرنے والا تحریک کو غلبے کی منزل تک نہیں پہنچا سکتا اور نہ اس کا معاون ہونا مفید ہے۔
- ہم خاکسار ( پاکباز، جانباز، اور غیر جانباز) قوم کو نقصان پہنچانے والے یا قوم سے نفع اٹھانے والے غداّر لیڈروں، لیٹروں، دشمن کے تنخواہ داروں، خلاف قوم ایڈ یٹروں اور اخباروں، غلط پروپگنڈہ کرنے والے شخصوں، دشمن ملے منافقون، ملک کی مختلف اقوام یا مسلمانوں کے مختلف فرقوں یا انجمنوں یا گرہوں میں منافرت پھیلانے والے شریروں کے خواہ وہ کسی قوم اور مذہب سے ہوں جانی دشمن ہیں اور اُن سے انتہائی انتقام لینے کے لئے کھڑاہے، خواہ ہمیں اس میں انتہائی قربانی کیوں نہ کرنی پڑے۔
Latest Posts
