Latest Posts

Media Section

Photo Gallery

Literature

Pamphlets

Wednesday, February 22, 2012

خاکسار کے ۲۴ اصول


خاکسارتحریک کا دستہ مارچنگ کرتے ہوئے۔
  1. کسی مسلمان کے خلاف نہ ہو، ازروئے قرآن مومن صرف وہ لوگ ہیں جو آپس میں بھائی چارہ قائم کرتے ہیں۔
  2. سب ہمسایہ طاقتوں اور دیگر اقوام کے ساتھ روداری رکھے تاکہ محبت کا عالمگیر جذبہ پیدا ہو۔
  3. مجاہدانہ اور سپاہیانہ قابلیتیں پیدا کرکے طاقتور بنے کیونکہ اسوہ حسنہ، اسوہ رسول، دینِ ِاسلام الغرض خداکا سچا مذہب صرف اور سپاہیانہ زندگی ہے۔
  4. اپنے مقرر کردہ سالار کے حکم کو خواہ وہ کتنا ہی تکلیف دِہ کیوں نہ ہو بلاحیل و حجت مانے کیونکہ امیر جماعت کے حکموں کی کامل اطاعت ایمان ہے۔
  5. اللہ اور اسلام کی راہ میں ہروقت اپنا مال وجان حتیٰ کہ فرزندوزن قربان کرنے کی طاقت پیدا کرکے جذبہ جہاد کو اجاگر کرے۔
  6. پابندی وقت کرے جو قوم وقت کی قدر نہیں کرتی وہ تباہ و برباد ہوجاتی ہیں۔
  7. خدا کے سوا کسی طاقت سے خوف نہ کھائے کیونکہ مسلم “ کسی انسان، کسی زمینی طاقت، کسی کمتر قوت، کسی ماسواء الہی زور کے آگے جھکنے نہیں آیا۔
  8. اپنے نیک عمل کے ذریعے روئے زمین کی حاکمیت اور اسِلام کا اجتماعی غلبہ پیش نظر رکھے (پس ایمان والے وہ لوگ ہیں جو غالب ہیں)۔ (القران)
  9. رُوحانی جذبات کو پیدا کرے، شیطانی جذبات کو کچل کر اصلاح نفس کرے تاکہ بے غر ض ا ور بے نفس ہوکر محبت، رواداری، خدمت، اخوت، اور اطاعت پیدا ہو۔
  10. بلالحاظ مذہب و تفریق بے لوث بے مزد خدمت ِخلق کرے اور اُس خدمت کی کچھ اُجرت نہ لے تاکہ تمام دنیا کو اپنی سچی محبت، روحانیت اور خدمت سے آغوش میں لے لے۔
  11. نماز قائم کرے اور باقی تمام ارکان اسلام پر پابندی سے عمل کرے۔
  12. قطار میں کھڑے ہوکر مسلمانوں کی اونچ نیچ کوعملاًبرابرکرے اور مساوات قائم کرے تاکہ طبقاتی ناہمواری، ذات برادری، خود پسندی، خود سر ی اور مذہبی و سیاسی عقیدوں کی بحث ختم ہو۔
  13. فوج کی طرح مارچ اور سپاھیانہ قواعد کرکے نظم و ضبط پیدا کر ے کیونکہ ہر قوم کی فتح مندی اور غلبہ اور غلبے کا راز اس کی جسمانی صحت، صالح خیالات اور صالح عمل میں ہے۔
  14. تمام غفلتوں اور سستیوں کودور کرکے ہر وقت چاق و چوبند رہے تاکہ قوم کے ہر فرد میں ہمت، طاقت، چستی، ولولہ، حوصلہ، پیروں کی حرکت اور جسموں کی حرکت، جانوں اور ارادو ں کی حرکت الغرض عمل پیدا ہو پھر دیکھو! قوم کیونکر نہیں بنتی۔
  15. نبیﷺ کی سنت سمجھ کر بیلچہ کا اوزار اپنے پاس رکھے اور دیگر ہر اسلحہ کی تربیت حاصل کرے تاکہ آڑے وقت میں خاکسار ملک کی حفاظت و استحکام کےلئے کسی قربانی سے دریغ نہ کرسکے۔
  16. خاکی وردی اپنے پیسوں سے بنوائے اوردائیں بازو پر ”اخوت“ یعنی بھائی چارہ کا سرخ نشان لگائے تاکہ یک رنگی اور یک جہتی پیدا ہو۔
  17. آپس میں جب بھی ملے فوجی سلام کرے اور ہر مسلمان کو السلام وعلیکم کہہ کر پکارے تاکہ حسن اخلاق پیدا ہو۔
  18. حتی الوسع خاکسار سے سودالے ایک دوسرے خاکسار کی تجارت کو مستحکم بنائے اور ملکی مصنوعات کو ترجیح دے تاکہ اقتصادی حالت مضبوط ہو۔
  19. مسلمان سے مذہبی عقیدوں اور فرقہ بندی کے متعلق بحث نہ کرے کیونکہ بحثوں و مناظروں سے قوم کی عملی طاقت زائل ہوکر توانائی قوت اوروقت ضائع ہوتا ہے۔
  20. مسلمان سے سیاسی عقیدوں کے متعلق بحث نہ کرے اس سے قوم میں فرقہ بندی، انتشار وافتراق، نافرمانی، نفرت اور بغاوت پیدا ہوتی ہے۔
  21. ہر مسلمان بلالحاظ فرقہ ایک لڑی میں پرودیئے جانے کی ہر موقعہ پر تبلیغ کرکے عملاً اتحاد پیداکرنے کی ہرممکن کوشش کرتارہے۔
  22. کائنات فطرت کے نظام کی طرح خاموشی اختیار کرے کیونکہ خاموش قوم ہی صحیح معنوں میں طاقتور قوم ہے اسی خاموشی کے اندر قومی کمزوری، بے نتیجہ بحث، مذہبی فرقہ بندی، غیبت، نافرمانی، باہمی عداوتوں اور صدہا اخلاقی برائیوں کا علاج ہے۔
  23. سننے اور کرنے والا ہو۔ کہنے اور نہ کرنے والا نہ بنے، ”ازروئے قرآن (حیف ہے اس سب سے بڑے جھوٹے اور خدا سے باغی شخص پر کہ ہمارے حکموں کو پڑھے جانے کے وقت صاف سنتاہے پھر ان سے روگردان ہوجاتا ہے کہ گویا سنے ہی نہیں تو اے محمد ایسے شخص کو دردناک عذاب کی بشارت دو)۔
  24. قوم کے ہر شخص کو خاکساروں کے مرکزی اجتماع اور اپنی صفوں میں عملی طور پر شامل ہونے کےلئے عملا ًتیار کرتاجائے تاکہ مسلمان بحیثیت مجموعی طاقتور اور غالب ہوں ۔ 


No comments:

Post a Comment

Designed By Blogger Templates