۱۳۴۴ ہجری یعنی ۱۹۲۶ءکے اوئل میں دنیا کے مسلمانو ں میں موتمر عام کی حرکت ایک ولولہ انگیز حرکت تھی ۔ ترکو ں نے خلافت کو مسترد کرکے مسلمانو ں کے سامنے پہلی دفعہ ایک ایسا مسئلہ پیش کردیا تھا جس کی نظیر گزشتہ اسلامی تاریخ میں مو جو د نہ تھی ۔ خلافت کو خو د بخود چھوڑ کر جس کے حاصل کرنے کے لئے اسلامی بادشاہ کسی زمانہ میں آرزو ئیں کیا کرتے تھے ۔ ترکوں نے مسلمانو ں پر یہ ثابت کردیا تھا کہ عالم اسلام کی روحانی قیادت ان کے نزیک کچھ کار آمد شے نہیں رہی بلکہ اس ”روحانی قیادت “ سے الگ تھلگ ہوجانا ان کے لئے عملاً مفید ہے ۔ الغرض تمام اسلامی تاریخ میں آخری دفعہ محکمہ قضاو قدر کی طرف سے مسلمانوں کو یہ تنبیہ تھی کہ ان کا شیرازہ قطعاً بکھر چکا ہے ۔ ان کا کوئی والی وارث اور پرسان حال نام میں بھی نہیں رہا۔ اس شیرازے کے آخری تارو پودتو خیر اس کا برائے ڈھانچہ اور خاکہ بھی مٹنے کو ہے مرض الموت کی یہ خوفناک علامتیں ہرصاحب نظر کو کپکپادینے کے لئے کافی تھیں لیکن ہندوستان کے مسلمانوں میں رسمی اضطراب شاید اس وجہ سے بھی کچھ زیادہ تھا کہ ان کا اخلاقی زوال نسبتاً دیر جاری ہے۔ سیاست ان کے ہاں نسبتاً کم ہے مذہب کی صورت سربسر رسمی بن چکی ہے ۔ قومیت اور صحیح اخو ت مفقود ہے ۔ محکومیت کی برائیاں ان کی رگ و پے میں اثر کرچکی ہیں ۔ وہ ایک پرانے مریض کی طرح مرض کو کسی کوٹ یا کرتہ کی طرح بدن سے اتار پھینکنے کی آرزو پوری ہوتی نظر نہیں آتی تو عمل میں اور تفرقہ انداز اور مزاج میں اور چڑچڑ ے او کھسیانے بن جاتے ہیں ۔اس بناپر مصطفےٰ کمال پاشا کا خلافت اسلام کو مسترد کردینا ہندی مسلمانوں کے نزدیک ایک بڑا جرم تھا وہ ترکو ں کو اس ناہموار حرکت پر کوستے تھے ، مصطفےٰ کمال پاشا کو برا کہتے تھے ، اپنے پچھتّر لاکھ روپیہ کو جو ترکو ں تک پہنچا بھی نہ تھا اور ترکوں نے مانگا بھی نہ تھا ، ہندی مسلمانوں کا احسان عظیم قراردے کریہ کہنے کا حق جتلاتے تھے کہ ترک احسان فراموش ہیں،بے درد ہیں، لامذہب ہیں، خلافت کو چھوڑ نے میں ایک ہولناک غلطی کررہے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ادھر ترکوں کو بجاغصہ اور رنج تھا کہ ان کی پانچ سو برس کی عزیز اور خون شہیداں سے رنگی ہویہ سلطنت پر آخری اور کاری ضرب لگا کر ٹکڑے ٹکڑے کردینے والے یہی ہندوستانی مسلمان سپاہی تھے۔ جنہوں نے پندرہ روپیہ کی خاطر ترکوں کے سینے نہایت بیدردی سے چھلنی کردئیے۔ حرمین کی حفاظت دشمن کے ہاتھ میں دلادی ۔ بیت المقدس کو جس کی خاطر مسلمانوں نے چھ سو برس تک عالمگیر لڑائیاں لڑیں اور کروڑوں کی تعداد میں شہید ہونے کے باوجود کسی سے ہیٹے نہیں ہوئے ۔ تیرہ سو برس کے بعد آن واحد میں دشمن کے سپرد کردیا ۔ مکہ کو جہاں سے اسلام پیدا ہوا تھا اور جس کی خاطر ی یہ تمام خلافت تھی تیرہ سو برس کے بعد ان واحد میں دشمن کی حفاظت میں دے دیا ، اخر جوا الیہود والنصرٰی من جزیرة العرب کی نبوی ﷺ وصیت کو (العیاذ باﷲ)پاؤں سے ٹھکرا کر بغداد جیسے مقدس مقام اور دجلہ اور فرات کے سے خوبصورت دریاؤں کو جن کی بابت حضور ﷺنے نھران من انہار الجنةفرمایا تھا تیرہ سو برس کے بعد آن واحد میں انصاریٰ کے سپرد کردیا ! حق تو یہ ہے کہ جب مکہ اور مدینہ، بیت المقدس اور بغداد، نجف اور غیر نجف سب کے سب ترکو ں کے قبضہ اقتدار سے نکل چکے تھے اور ہندوستانی مسلمانوں کے ”جوش ایمانی “ کے باعث ہی نکلے تھے تو ترکون کاروحانی خلافت “ کے قباکو اور اوڑھے رکھنا مضحکہ انگیز نہ ہوتا تو کیا ہوتا۔ مسلمانو ں میں سیاست کیا تھی جو اس باریک نکتہ کو سمجھ سکتے یا اپنے کیے پر پشیمان ہوکر گردنیں نیچی کرلیتے۔ ترکو ن نے خو ب کیا کہ ان چند ہندوستانی مہاجروں کو بھی بیک بینی و دوگوش اپنی سلطنت سے نکال دیا جو افغان خیز اں کابل کی راہ سے انگور راپاپیادہ پہنچے تھے۔ انہوں نے سمجھاکہ یہ وہی ذلیل ہندی ہیں جو اپنے مسلمان بھائیوں کو عمداً قتل کرنے کے مجرم ہیں جن کی آخرت صرف جہنم ہے !
ترکوں سے اگر کچھ غلطی ہوئی تو یہ کہ انہون نے اپنے جانشین خلیفہ کے انتخاب کاانتظار نہ کیا۔ لیکن اس عالم آشوب زمانے میں اس امر کا کیا انتظار ہوتا ان کو اپنی جان کے لالے پڑے تھے۔ تمام زرخیز ملک ان کے قبضہ اقتدار سے نکل چکے تھے، مسلمانوں کے اجتماع کی کوئی صورت باقی نہ رہی تھی، بلکہ اجتماع کا احساس بھی نہ تھا۔ ایسی حالت میں مصطفےٰ کمال پاشا نے نہایت صحیح طور پر اور کمال قرآن بینی سے اعلان کیا کہ خلافت اور حکومت دراصل الگ ہوکر ”خلیفہ “ ہونا بے معنی ہے۔ گویا ان قوموں پر جو دوسروں کی محکوم ہیں صرف ”روحانی خلیفہ “ بنے رہنا لاطائل ہے۔ جب خلیفہ کا حکم ہی ان پر نہیں چلتا تو پھر ”خلافت “ کا لفظ ساتھ لگائے رکھنا بے سود ہے۔ مصطفی کمال پاشا نے اپناڈیفنس خوب کیا ۔ مگر ”خلافت “ کے منقطع ہوجانے سے عالم اسلام کی وہ رہی سہی اجتماعی صورت جو برائے نام تھی ہمیشہ کے لئے منقطع ہوتی ہوئی صاف نظر آئی۔
اس جامکاہ اضطراب کے عالم میں شیخ الاسلام قاھرہ (مصر) کی طرف سے موتمر میں شامل ہونے کی دعوت مجھے موصول ہوئی ۔ ”تذکرہ“ ایک مدت پہلے ان تک بلکہ شیخ امام سنوسی سابق امیر طرابلس تک پہنچ چکا تھا۔ مصر کے شاہی خاندان کے رکن اعظم عمر طوطا پاشا، وزیر جنگ موسیٰ فواد پاشا، صدر اعظم دیوان ملکی نسیم توفیق پاشا اور مشہور ادیب احمد تیمور پاشا وغیرہ ہم ” تذکرہ“ کی تعلیم سے نہایت متاثر تھے۔ مجھے خیال ہوا کہ اگر موتمر قاہرہ میں ہی عالم اسلام کی عالمگیر تنظیم کی کوئی صورت پیدا ہوجائے تو میرا جانا مفید ہوسکتا ہے۔ ادھر خیال تھا کہ سلطان مصر کا خلیفہ منتخب ہوجانا انگریزوں کے لئے فتح مبین ہوگی۔ مسلمانو ں کے ” روحانی حاکم “ بھی اب یہی لوگ ہوا کریں گے۔ گویا اسلامی سلطنتوں کی بیخ کنی میں جو مدد انگریز روپیہ کے زور پر لیتے ہیں وہ آئندہ اپنے خطاب یافتہ سلطان کے ”روحانی “ اثر سے لیا کریں گے۔اور اس طرح پر مسلمانوں کو آپس میں لڑواکر دنیا سے نیست و نابود کردینے کا زبردست ہتھیار دشمن کے ہاتھ آجائے گا ۔ ان دو اغراض ک پیش نظررکھ کر میں مستعد ہوا ۔اور ۲۶ اپریل ۱۹۲۶ءجہاز ”رنپور “ میں سوار ہونے سے پہلے تاردیدی کہ موتمر میں شامل ہونے کے لئے روانہ ہورہا ہوں ۔
۳مئی ۱۹۲۶ءکو جہاز پورٹ پر پہنچا ۔ جہاز کے لنگر انداز ہونے سے کچھ دیر پہلے ہی تین وفد ، ایک شیخ الاسلام کی طرف ، دوسرا موسیٰ فواد پاشا اور تیسرا عمر طوسان پاشا کی طرف سے عرشہ پر موجود تھے ۔ مجھے ایک گونہ تسلی تھی علما اور حکومت دونوں کی طرف سے اظہار محبت ہے ۔ اس لئے کامیابی مشکل نہیں ۔ دو دن پورٹ سعید ٹھہر کر قاہرہ کا رخ کیا ۔ اسٹیشن پر علمائے ازہر کا ایک اژدھام تھا ۔ علامہ شیخ حسین ولی سیکریٹری موتمر ان کے ساتھ تھے ۔ نیں کنتنتال ہوٹل میں ٹھہرا۔ اگلے روز شیخ الاسلام ، موسیٰ فواد اور شیخ محمد ادریس سنوسی جو سنوسی جو شیخ امام سنوسی کے بڑے صاحبزادے ہیں ۔ ملاقات کے لئے آئے ۔ ملاقاتوں کا سلسلہ کئی روز تک جاری رہا ۔ لیکن یہ واضح ہوگیا کہ مسلمانوں کا انحطاط سب جگہ یکساں ہے ۔ ان کے دلوں میں کوئی مستقل تجویز نہیں ۔ موتمر میں میرے تقریر کرنے پر سب سے زیادہ زور تھا ۔ میں عذر کرتا رہاکہ تقریریں کرنے کے لئے نہیں آیا ۔
شاندار دعوتوں جو اس اثنا میں ہوتی رہیں۔ مسلامن ہر جگہ اپنی حالت پر مطمعین نظر آتے تھے ۔ ۳۱ مئی کو موتمر منعقد ہوئی او ۲۲ تک رہی ۔قریباً ہر اسلامی ملک کے نمائندے اس میں موجود تھے حتاکہ پولینڈ (روس) کا قاضی القضاد بھی اس اجتماع میں شامل تھا ۔ میری تقریر کے بعد موتمر مختلف حصوں میں تقسیم ہوگئی ۔ ان کمیٹیوں میں جو کچھ ہوا ہوا ۔ البتہ یہ ضرور ہوا کہ کسی محکوم بادشاہ کے خلیفہ بنائے جانے کی مسترد ہوگئی۔
موتمر کے انعقاد کے بعد میں عالم اسلام کے لئے ایک مرکزی بیت المال قائم کرنے کی تجویز کو عمل میں لانے کی کوشش کی۔ اس مطلب کے لئے دو ماہ تک مصر میں ٹھہرا ۔ بیس ہزار پونڈ کے وعدے مختلف لوگوں سے لئے ۔ تجویز یہ تھی کہ سب بادشاہان اسلام اس میں شامل ہوں اور اسی ذریعہ سے اتحاد کی صورت پیدا ہو۔ دس برس تک بیت المال کو وسیع کیا جائے ۔ جلالتہ الملک امیر فیصل سے یورپ جاتے ہوئے اسی جہاز میں ملاقات ہوئی،اور سلطان مراکش اور سلطان تیونس سے پیرس میں جلالتہ الملک ابن سعود سے بھی خط و کتابت ہوئی آخرش مصطفی کمال پاشا کو اس تجویز سے مفصل آگاہ کیا۔ غازی موصوف نے اس تجویز توجہ کرنا مناسب نہ سمجھااور یہ تجویز اس طرح پر مسترد ہوگئی۔ اسی اثنامیں قاہرہ اور مکہ کی دونوں موتمر یں بھی صرف چند روز تک زندہ رہ کر انتقال کرگئیں۔
آج خلیفہ مقرر کرنے کے متعلق مسلمانوں کا جوش و خروش جو کچھ تھاقطعاً نابود ہوچکا ہے ۔ موتمر کی تجویزیںیا موتمر کے انعقاد کا نشان تک باقی نہیں رہا۔ ”خلافت “ کی بے شمار مجلسیں جو ہندستان میں پیدا ہوگئی تھیں۔ اپنا نصب العین قطعاً بدل چکی ہیں ۔ مجھے ڈر ہے کہ تیرہ سو برس میں ”خلافت“ صرف ساڑھے تین برس تک منقطع رہی تھی۔ لیکن یہ انقطاع آخری ہے۔ قوم کی موت کے آخری آثار نمایاں ہوچکے ہیں۔ اگر مسلمان اس وقت سنبھل گئے اور میر ی کتاب ” اشارات“ کی تجویز کو محکم طور پر پکڑ لیا تو اب بھی زندگی کی قطعی امید ہوسکتی ہے ۔
اب تک میری تقریر کے کئی ایڈیش مصر او ر ہندوستان میں بلاترجمہ چھپے تھے۔ لیکن لوگوں اردو ترجمہ بدستور طلب کرتے رہے۔ پشاور میں ایک ترجمہ اردو میں میری مصر کی غیر حاضری میں چھپاتھا لیکن وہ کئی جگہوں پر صحیح نہ تھا ۔ یہ ترجمہ اب میں نے خود کیا ہے۔
عنایت اﷲ خان
مورخہ ۱۰ اکتوبر ۱۹۳۱ء
عنایت اﷲ خان
مورخہ ۱۰ اکتوبر ۱۹۳۱ء

No comments:
Post a Comment