لاڑکانہ(پ۔۔۔۔ر) آج مقدس مادر وطن کی تقسیم کی باتیں کھلے عام جلسوں میں کرنا پھر ان بیانات پر پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے سیاسی اکھاڑوں میں بیٹھ کر پر بحث مباحثے کرانا ملک کی سالمیت پر انگلیاں اٹھانا اور ملکی مفادات کو بلاطاق رکھ کر اپنے اقتدار اور پارٹی مفادات کے تحفظ میں ملک توڑنے کی باتیں کرنا پاکستان کے ان سیاہ کار لیڈروں کا انتہائی غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے جس کی وجہ سے پاکستان کے انیس کروڑ عوام ملک کے سالمیت کے حوالے سے غیر یقینی صورت حال سے دو چارہوچکے ہیں پاک سر زمین پہلے ہی یہود و ہنود کے سازشوں کا گھڑ بن چکی ہے بد امنی، لوٹ کھسوٹ، مہنگائی، اقرباپروری، من مانی، چوری بازاری، ذخیرہ اندوزی، سودی خوری، فحاشی، چوری، ڈکیتی اور دہشتگردی اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے۔ ملک آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک جیسے مالیاتی دہشتگردوں کے ہاتھوں یرغمال بن کر اربوں ڈالر کا مقروض بن چکاہے۔ ملکی معیشت اندرونی اور بیرونی قرضاجات اور توانی کے بحران کی وجہ سے آخری سانسیں لے رہی ہے، حکومت ملکی معاملات کو چلانے کے لئے دھڑا دھڑ نوٹ چھاپ چھاپ اپنا کام چلا رہی ہے اور بیرونی آقاؤں کے دیئے گئے ڈکٹیشنوں پر چل چل کر اپنے ذاتی مفادات کے تحفط کی خاطر اپنی اپنی پارٹی کے اقتدار کو طول دینے میں لگیں ہیں ملکی اور قومی مفادات کو بالاطاق رکھ کر صرف اور صرف یہ پارٹیاں اور ان کے نام نہاد سیاہ کار لیڈر پاکستان کے اقتدار کی رسہ کشی میں مگن ہیں اور صرف پاکستان پر اپنی اور اپنی پارٹی کی حکمرانی کی باریاں لگانے میں ایک دوسرے پر بازی لے جانے کی تگودو میں ۲۴ گھنٹے مصروف عمل ہیں یہ نہ عاقبت اندیش گروہ جو کہ سیاسی ، مذہبی اور آمرانہ روپ دھارے اقتدار کی جنگ میں ملک کو مسلسل غیر محفوظ کرنے پر تُلے ہوئے ہیں کروڑوں پاکستانیوں کو تباہی و بربادی کی طرف دھکیلتے چلے جار ہے ہیں ان کے سائے میں بننے والی محکوم حکومتیں اپنی رٹ کھو چکی ہیں اسی لئے ہر گروہ ہر پارٹی بلکہ ہر طاقتور شخص اپنی اپنی رٹ مضبوط کرنے میں لگا ہے ان خیالات کا اظہار قائد خاکسارتحریک ڈاکٹر صبیحہ المشرقی نے خاکسارتحریک کے محرک ِ ثانی حمید الدین المشرقی کی چوتھی برسی موقع پر ان کے استحکام پاکستان مشن کو جاری و ساری رکھنے کے عزم کا ارادہ کرتے ہوئے خاکسار تحریک لاڑکانہ کے زیر اہتمام استحکام پاکستان مارچ کے شرکاء سے ٹیلفوک خطاب کرتے ہوئے کہے۔
خاکسار خاتون رہنما نے مزید کہا کہ پچھلی صدی کے اوائل میں پاکستان ایک خواب تھا ایک ولولہ انگیز نعرہ تھا کہ پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ یہ نعرہ مسلم لیگ کے پلیٹ فارم لگایا گیا اس نعرے پر مسلمان قوم ہندوستان کے تول وعرض سے نکل کر ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو گئے اور اس نعرے کے ساتھ ساتھ ایک نعرہ اورلگا کہ مسلم ہے تو مسلم لیگ میں آ اور انہی نعروں کو بنیاد بناکر دو قومی نظریہ پیش کرکے پاکستان بنایا گیا اور جب اس ملک کی بنیاد رکھی گئی تو یہ عہد کیا گیا کہ اس ملک کو اسلام کا قلعہ بنائیں گے جب یہ ملک بنا تو اس ملک کی فوج کے پہلے دو کمانڈر انچیف General Sir Frank Messervy اور General Sir Douglas Gracey دونوں انگریز دونوں عیسائی، پاکستان کی پاک فضائیہ کے پہلے چار کمانڈر انچیف چاروں انگریز، پاکستان کا پہلا وزیر قانون Jogendra Nath Mandal ایک ہندو، پاکستان کا پہلا وزیر خارجہ Muhammad Zafarullah Khan ایک قادیانی، پاکستان کے چار صوبوں کے تین گورنر انگریز Sir Frederick Bourne گورنر مشرقی بنگال، Sir Francis Mudie گورنر مغربی پنجاب، Sir George Cunningham گورنر صوبہ سرحد، ان حالات میں پاکستان کن ہاتھوں میں رہا کتنا اسلام کا قلعہ بن سکا سب پر عیاں ہے اس بات سے قطع نظر ایک سال بعد بانی پاکستان کی رحلت کے بعد انہی کے نظریہ کو لیکر چلنے والے بقایا سیاہ لیڈروں نے اس ملک کو انگریز کی غلامی سے نکال کر امریکہ بہادر کی غلامی میں دے دیا۔ اور یہ کام اُن سیاہ کار لیڈروں نے کیا جن کے بارے میں بانی پاکستان نے بستر مرگ پر کہا کہ میری جیب کے سارے سکے کھوٹے تھے(حوالہ: ٹائم میگیزین شمارہ ۲۳ دسمبر ۱۹۹۷ء)۔ قائد تحریک نے مزید یہ کہا کہ بحثیت قوم ہمارا حافظہ اتنا کمزور ہے کہ ہمیں یاد ہی نہیں رہا کہ 1947 میں کیا قیامت صغرٰی برپا ہوئی برصغیر میں ایک کروڑ انسان متاثر ہوئے دس لاکھ مسلمانوں کا قتل ِ عام ہوا ہزاروں عصمتیں لٹ گئیں بچے سنگینیوں پر اچھالے گئے اربوں روپے کی ملکیتیں تباہ ہویں مہاجرین کا لہو لہان سیلاب رواں ہوا، ا مسلمان ریاستیں اپنا وجود کھو بیٹھیں جو مسلمان کبھی ہندوستان کے حاکم تھے ان کی برہنہ لاشیں اور لٹی عصمتیں عبرت کدہ بن گئیں مسلمان قوم کی اجتماعی قوت تقسیم ہوگئی کروڑوں مسلمان ہندو کی ابدی غلامی میں چلے گئے جو باقی آدھے بچ گئے وہ انگریز کی غلامی سے نکل کر امریکہ بہادر کی دائمی غلامی میں دھکیل دئیے گئے اور پاکستان ایک کمزور یاست کی شکل میں دنیا کے نقشے پر نمودار ہوا اور وہ جناح کا پاکستان جو دو قومی نظریہ کی وجہ وجود میں آیا جس نے اسلام کا قلعہ بننا تھا علامہ المشرقیؒ کی ۱۹۵۶ء کی پیشنگوئی کے عین مطابق ا ن سیاہ کا لیڈروں کی سیاہ کاریوں کی وجہ سے ۱۹۷۱ء میں دولخت ہوا۔ آج پھر ملک کو ٹکرے ٹکرے کرنے کی باتیں ان ہی سیاہ لیڈروں کی زبانوں سے ادا ہورہی ہیں او یہ ہی عنص ملک کو جان بوجھ کر کمزور کے درپے ہے۔ خاکسارتحریک کی بنیاد علامہ عنایت اللہ خان المشرقیؒ نے ان ہی سیاہ کارلیڈروں کی سیاہ کاریوں دیکھ کر رکھی تھی خاکسارتحریک انگریز کے دور سے لیکر آج تک اسی عنصر کی سیاہ کاریوں سے نبرد آزما ہے اور ان ہی کی سازشوں کی وجہ سے پورے ہندوستان میں خلاف قانوں قرار پائی لیکن یہ پابندیاں خاکسارتحریک کو اس کی منزل غلبہ اسلام کی راہ سے ہٹا نہیں سکتیں ۔ آج بھی خاکسارتحریک ان سیاہ کار سیاسی اور مذہبی لیڈروں کے ان اوچھے ہتھکنڈوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے اور یہ بات پریس اور الیکڑانک میڈیا سے باور کرانا چاہتی ہے کہ جب تک سرزمین پاکستان میں ایک بھی خاکسارموجود ہے اس ملک کو کوئی اپنے مظوم ارادوں کی تکمیل کی خاطر توڑ یا مزید تقسیم نہیں کرسکتا۔
خاکسار تحریک سمجھتی ہے کہ غیر ملکی آقائوں کے غلام یہ سیاہ کار لیڈر ا پنے آقائوں کے رومن فارمولے Divide & Rule کی تکمیل میں لگے ہیں اب حالات کا تقاضہ یہ ہے کہ 19 کروڑ پاکستانیوں کو اس سرزمین پاکستان کی حفاظت ، اپنی نسلوں کی بقاء اور اپنی ماؤں بہنوں اور بیٹوں کی چادر اور چار دیواری کے تحفظ کی خاطر عسکری بنیادوں پرعلامہ عنایت اللہ خان المشرقیؒ کی پیش کردہ اصلاح نفس کے فارمولے کے تحت محلوں کی سطح پر صف آراء ہوکرایک عظیم انقلاب کی راہیں استوار کرنے پڑی گی تاکہ ان سیاہ کار سیاسی اور مذہبی پیشواؤں جنہوں نے ملک کو پچھلے ۶۷ سالوں سے یرغمال بنارکھا ہے جان چھڑا ایک فلاحی ریاست کی بنیاد رکھ کر دائمی امن کے ساتھ سکھ اور چین کی زندگی گزار سکیں۔ اس مارچ کے شرکاء سے ، عزم حیدر ناظم اعلیٰ سندھ ، عبدالقیوم دہمراہ، نظیر حسین سیال اور دیگر مقررین نے خطاب کیا۔
خاکسارمیڈیا سیل
ان پیج فارمیٹ میں پریس ریلیز ڈاؤن لوڈ کریں۔

No comments:
Post a Comment