اے مسلمانو! اس آیت کا صحیح اور ناقابلِ تردید ترجمہ یہ تھا کہ اے ایمان والو!(اطیعواللہ) اللہ کے احکام کی جو تم پر بصورتِ قرآن اترے ہیں انکی کامل متابعت کرو۔(اطیعو الرّسول)رسولؐ کے بالمشافہ اور وقتی حکموں کی جو وہ تمہیں بہ حیثیت امیرِ جماعت دیتے ہیں انکی فوری تعمیل کرو۔(واُولی الامرمنکمُُ) اور ان حاکموں کے حکموں کی تعمیل کرو جو تم میں سے رسول اللہ نے تم پر نظام قائم رکھنے کیلئے مقرر کئے ہیں جن کے تم ماتحت ہو۔ (تنازعتمُُ) اگر کسی معاملے میں تم اور تمہارے مقرر کردہ حاکم کے کسی دئیے ہوئے حکم کے بارے میں تنازعہ و رنجش پیدا ہو جائے، تو (فَرِدُوہ اِلَی اللہ والرّسُولُ) اُس حاکم سے بڑے اور اعلی حاکم یعنی اللہ اور اسکے رسولؐ پر چھوڑ دو ،(اِنکُنتُم یُومِنُوںَ بِااللہ والیَومِالآخرِ) بشرطیکہ تم یقینِ کامل رکھو کہ اللہ اس حاکم کے ناروا حکم کو بغور دیکھ رہا ہے اور روزِ جزا کو اس سے ضرور بل ضرور گرفت کرے گا۔
(خَیر)یہی تمہاری اجتماعی بہبود ی کے حق میں بہترین ہے۔(وَاَحَسَنُ تَاوِیلَا) اور جس کی اصل جڑ(تاویل) تمہارے حق میں بہتر ہے۔
(خَیر)یہی تمہاری اجتماعی بہبود ی کے حق میں بہترین ہے۔(وَاَحَسَنُ تَاوِیلَا) اور جس کی اصل جڑ(تاویل) تمہارے حق میں بہتر ہے۔
یعنی یہی کامل اطاعت اور غیر مشروط اطاعت وہ شے ہے کہ جس کی تہ و بنیاد میں تمہاری بھلائی ہی بھلائی ہے۔
مسلمان آ ج حضرت عمرؓ کی یمن کی چادروں والا قصہّ بار بار اس لئے دہراتا ہے کہ اسے بلکہ ہر شخص ک ہر وقت اپنے امیر پر بے جا نکتہ چینی کا موقعہ ملے۔ حتآکہ دیانت دار حاکم پر بھی تھوکنے کا موقع مل جائے۔ وہ عربی انتہائی طور پر بدبخت اور بد نیت تھا ،کسی برے آدمی سے خبر ملنے کے بعد اگر نیک نیت ہوتا تو تصدیق کرتا ،اِذَاجَائَ کُم ٖفَاسِقً بنیاء فَتبینو (اے ایمان اگر کوئی فتنہ پرداز شخص تمہارے پاس (تم میں پھوٹ ڈالنے یا سنسنی پیدا کرنے والی ) کوئی خبر لائے تو اس خبر کو (اوروں تک پہچانے سے پہلے )اچھی طرح تصدیق کر لیا کرو۔ قرآنِ حکیم میں ہے کہ (ترجمہ) فتنہ پرداز لوگوں کے پاس جب کوئی امن یا خوف کی خبر آتی ہے تاریخِ اسلام اس امر کی صاف شاہد ہے کہ صدرِ اسلام سے ہی مسلمان امت نے اپنے امیر کے ہر حکم کی بے چوں وچرا اطاعت کی، اس کو بار ہا ناگوار احکام بھی طوعاً وکرہا ً ماننے پڑے۔ اُف تک نہ کی اور راضی برضائے خدا حکم مانتی رہی اور انکے بیت المال میں زکو۱ۃ بھی دیتی رہی۔
حضرت طارق ؓبن زیاد نے جبل الطارق کے سامنے تمام کشتیاں جلا نے کا حکم دیا۔ سالار صدائے احتجاج بلند کرنے اور اپنے زعم میں مشورہ دینے لگے۔طارقؓ نے ایک نہ سنی اور سب جہاز خاکستر کردیے۔محمود غزنوی نے کسی کی ایک نہ سنی اور ہندوستان پر سترہ حملے کئے۔ الغرض مسلمان کا امیر امیرِناطق ہے۔ اُمت کی ہر گرفت سے آزاد ہے۔ اس کا معاملہ صرف اللہ اور رسول ﷺ سے ہے۔ وہی اس سے نپٹ سکتے ہیں۔ چونکہ وہ خود بھی مسلمان اور اولی الامرمنکم ہے، اس لئے اسے بھی اپنی آخرت کی فکر ہے۔ روزِ جزا و سزا کا ڈر ہے۔ امت اس سے ہر گز یہ مواخذہ نہیں کر سکتی کہ وہ اپنے ہر حکم کی تشریح کرے، وہی حکم اور فعل کی لِم کو سمجھ سکتا ہے ۔یہ الہی تحکُم ، یہ اخلاق ِالہی جب تک فرض نہ کر لیا جائے قوم یا جماعت کسی بلند مقام ، کسی ادنٰے سے نظام کسی معمولی سی طاقت تک نہیں پہنچ سکتی!
مسلمان آ ج حضرت عمرؓ کی یمن کی چادروں والا قصہّ بار بار اس لئے دہراتا ہے کہ اسے بلکہ ہر شخص ک ہر وقت اپنے امیر پر بے جا نکتہ چینی کا موقعہ ملے۔ حتآکہ دیانت دار حاکم پر بھی تھوکنے کا موقع مل جائے۔ وہ عربی انتہائی طور پر بدبخت اور بد نیت تھا ،کسی برے آدمی سے خبر ملنے کے بعد اگر نیک نیت ہوتا تو تصدیق کرتا ،اِذَاجَائَ کُم ٖفَاسِقً بنیاء فَتبینو (اے ایمان اگر کوئی فتنہ پرداز شخص تمہارے پاس (تم میں پھوٹ ڈالنے یا سنسنی پیدا کرنے والی ) کوئی خبر لائے تو اس خبر کو (اوروں تک پہچانے سے پہلے )اچھی طرح تصدیق کر لیا کرو۔ قرآنِ حکیم میں ہے کہ (ترجمہ) فتنہ پرداز لوگوں کے پاس جب کوئی امن یا خوف کی خبر آتی ہے تاریخِ اسلام اس امر کی صاف شاہد ہے کہ صدرِ اسلام سے ہی مسلمان امت نے اپنے امیر کے ہر حکم کی بے چوں وچرا اطاعت کی، اس کو بار ہا ناگوار احکام بھی طوعاً وکرہا ً ماننے پڑے۔ اُف تک نہ کی اور راضی برضائے خدا حکم مانتی رہی اور انکے بیت المال میں زکو۱ۃ بھی دیتی رہی۔
حضرت طارق ؓبن زیاد نے جبل الطارق کے سامنے تمام کشتیاں جلا نے کا حکم دیا۔ سالار صدائے احتجاج بلند کرنے اور اپنے زعم میں مشورہ دینے لگے۔طارقؓ نے ایک نہ سنی اور سب جہاز خاکستر کردیے۔محمود غزنوی نے کسی کی ایک نہ سنی اور ہندوستان پر سترہ حملے کئے۔ الغرض مسلمان کا امیر امیرِناطق ہے۔ اُمت کی ہر گرفت سے آزاد ہے۔ اس کا معاملہ صرف اللہ اور رسول ﷺ سے ہے۔ وہی اس سے نپٹ سکتے ہیں۔ چونکہ وہ خود بھی مسلمان اور اولی الامرمنکم ہے، اس لئے اسے بھی اپنی آخرت کی فکر ہے۔ روزِ جزا و سزا کا ڈر ہے۔ امت اس سے ہر گز یہ مواخذہ نہیں کر سکتی کہ وہ اپنے ہر حکم کی تشریح کرے، وہی حکم اور فعل کی لِم کو سمجھ سکتا ہے ۔یہ الہی تحکُم ، یہ اخلاق ِالہی جب تک فرض نہ کر لیا جائے قوم یا جماعت کسی بلند مقام ، کسی ادنٰے سے نظام کسی معمولی سی طاقت تک نہیں پہنچ سکتی!
خاکسار سپاہیو اور مسلمانو! اس تمام شرح سے جو میں نے ا طاعت ِ اسلامی کے متعلق قرآن کے حوالے دے دے کر سمجھایا ، اس سے تمہیں یہ واضح ہو گیا ہوگا کہ اسلام سرتا پا اطاعت ہے، مطلق اور مجرد اطاعت ہے، بلا شرط اطاعت ہے، کل کائنات اور موجودات کا ہر ذرہ اطاعت کر رہا ہے۔ نجم وشجر، شمس و قمر، جن و انس اللہ کی اطاعت کر ر ہے ہیں۔ اس اٹل اور انمٹ قانون سے ادھر اُدھر نہیں ہوسکتا۔ دینِ فطرت کی اطاعت ہی اطیعواللہ ہے، دوسرے مرحلے میں اللہ کے بھیجے ہوئے پیغمبروں کی اطاعت، اور تیسرے مرحلے میں امیرِجماعت کی اطاعت بلا شرط ہے۔ مسلمان کو اختیار نہیں کہ اپنے امیر پر حرف زنی کرسکے، جماعت میں فتنہ و فساد پیدا کرے، اصلاح کے بعد زمیں فساد پیدا کرے۔ مسلمانو! یہی سچا اسلام ہے یہی قانونِ فطرت ہے۔ اسی قانون سے نظام پیدا ہوتا ہے۔ اسی سے جماعت پیدا ہوتی ہے۔ اسی سے بے پناہ قوت و طاقت قوم میں پیدا ہوتی ہے۔
یاد رکھوا! قرآن انہیں معنون میں ذِکرُالعَالَمِین ہے، کَافّۃ لِلنّاسِ ہے۔ مسلمانو! آج سے قرآن کو اس نظر سے دیکھنا شروع کرو کہ یہ تمام اقوام ِ عالم کا قانون ہے اور سب فیصلے اس کے مطابق ہو رہے ہیں۔ جو قومیں اس پر عامل ہیں سرخرو ہیں۔ اب قرآنِ حکیم سے پردے ہٹا کر عاملِ قرآن ہو جاؤ ہر فرد اپنے آپ کو منظم کر لے تاکہ اندرونی و بیرونی دشمن کوئی فائدہ نہ اٹھالے۔
(یاد رکھوا! اگر تم نے تیاری نہ کی تو ایک بہت بڑا عذاب تم پر پھر نازل ہوگا۔۱۹۴۷ء میں تمہارے پس جائے پناہ تھی جس میں تم محفوظ ہوگئے مگر اب میری نگاہیں دیکھ رہی ہیں کہ ایک طرف اٹک کا دریا ہوگا دوسری طرف چین کی سرحدیں ہونگی تمہارے لئے کوئی جائے پناہ نہ ہوگی۔۔۔نافرماں قوموں پر اللہ کا عذاب انکے اپنے ہی اعمال کی وجہ سے آتا ہے۔)
٭٭٭٭

No comments:
Post a Comment