خاکسار تحریک کی بنا اول اور آخر تک ہر جگہ اختیار ناطق پر ہے۔ جمہوریت، اکثریت یا انتخاب پر کسی جگہ نہیں۔ محلہ کا سالار اُس محلہ کا ڈکٹیٹر اس لئے ہے کہ اس سے محلہ میں اصلاح اور انقلاب پیدا کرانے کی توقع ہے، نری انجمن سازی کی توقع نہیں۔ اس بنا پر اس کو محلہ کے خاکسار سپاہی منتخب نہیں کرتے۔ وہ ادارہ علیہّ کی طرف سے مقرر ہوتا ہے اور محلہ کے تمام خاکسار باہمی اتّفاق اور اتحاد کر کے بھی اس کو اپنی جگہ سے ہٹا نہیں سکتے۔ بلکہ بعض دفعہ ایسا ہوا ہے کہ ایک محلہ کی جماعت اپنے سالار کی مفروضہ سختی سے بگڑ کر اس امر کے درپے ہوئی کہ اپنے منتخب شدہ آدمی کو سالاری کے لئے پیش کرے۔ اِس درخواست کو ہمیشہ ردّ کیا گیا ہے اور سالار کو موقوف کرنے کے بجائے اُس جماعت کو توڑ دینا بہتر سمجھا گیا ہے۔ اس فیصلے کا نتیجہ ہمیشہ یہ ہوا ہے کہ محلہ کی جماعت بالاآخر اپنی کمزوری تسلیم کرنے کے بعد اُسی مقرر کردہ سالار کے ماتحت پورے جوش سے کام کرتی گئی ہے اور کامل اطاعت کا نمونہ بن گئی ہے۔ انتخاب زور آور قوم کا حق ہو سکتا ہے لیکن کمزور قوم کا انتخاب کا حق دینا اس کے شیطانی جذبات کو بھڑکانا ہے، گری ہوئی قوم کو عروج دینے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اُس قوم کے افراد کی خود رائی کو، جو زوال کا لازمی نتیجہ بلکہ لازمی باعث ہوا کرتی ہے، فنا کر دیا جائے کسی شخص کی ذاتی رائے نہ رہے۔ یہ احساس نہ رہے کہ ہر شخص اپنی ذاتی رائے سے جماعت کو درہم برہم کر سکتا ہے ۔ کمزور قوم میں کمزوری دراصل اس لئے ہے کہ اس میں ہر شخص صرف اپنا زور پیدا کرنا چاہتا ہے، ہر شخص پیر اور مرشد ہے۔ ذاتی رائے کو فنا کر دینے سے امن پیدا ہوگا اور امن کے بعد لامحالا نظام پیدا ہوگا، طوائف الملوکی سے نظام ہرگز پیدا نہیں ہوسکتا۔ سالاران محلہ کی تمام افسران بالا بھی علےٰ ہذالقیاس اپنی اپنی جگہوں پر مختار ناطق ہیں۔ وہ اپنے اپنے علاقہ کی ذمہ داری کو محسوس کرتے ہیں۔ ادارہ علیہّ کی طرف سے ان کو گرفت ہوتی ہے۔ سزا دی جاتی ہے، انعام دئیے جاتے ہیں لیکن روایاناروا حکم کو جو ہو ایک دفعہ دیں واپس اس لئے نہیں لیا جاتا کہ جمہور میں ان کی ڈکٹیٹر شپ برقرار رہے۔ اگر کوئی سالار پے درپے اپنی ذمہ داری کو محسوس نہیں کرتا تو اس کو سزا یہ ہے کہ اس کو تبدیل کر دیا جائے یا خاکسار بنا کر سپاہیوں کی قطار میں شامل کر دیا جائے۔
سالار کو حکم ہے کہ کوئی بڑی تجویز رائج کرنے سے پہلے اپنے ماتحتوں سے مشورہ لیں۔ تجویز کردہ اصلاح سے پہلے جمہور کے متعلق میلان دریافت کریں، پھر اس کے بعد اپنی ذمہ داری پر جو حکم مناسب سمجھیں نافذ کریں۔ وہ ادارہ کے سامنے جواب دہ ہیں لیکن ان کو حکم نافذ کرنے اور نافذ کرنے کے بعد منوانے کا پورا اختیار رہے یہی اسلامی ’’شُوریٰ‘‘ ہے اور یہی انگریزی لفظ کونسل کے اصلی معنیٰ ہیں۔ یہ شوریٰ خاکسار تحریک میں اوّل سے آخر تک ہے۔
علامہ عنایت اللہ خان المشرقی۔
قولِ فیصل سے ماخوذ
صفحہ نمبر : ۸۶ تا ۸۷
علامہ عنایت اللہ خان المشرقی۔
قولِ فیصل سے ماخوذ
صفحہ نمبر : ۸۶ تا ۸۷

No comments:
Post a Comment